Tuesday, July 27, 2010

وردی

بھیڑیے کی فطرت سے وحشتیں نہیں جاتیں
زور ٹوٹ جاتا ہے، عادتیں نہیں جاتیں
دانت جاتے رہنے سے خصلتیں نہیں جاتیں
شیر کی شریعت میں خون بہانے والے کو خوں بہا بھی ملتا ہے
اک شکا رکرنے پر دوسرا بھی ملتا ہے
اژدہے کے مسلک میں بے اماں مکینوں پر
آہنی تصرف کا حق ہمیشہ رہتا ہے
تیندوے کی آنکھوں میں عمر پوری ہونے تک
زرد حرص رہتی ہے
سانپ کی طبیعت پر سم رسیدہ لوگوں کا کوئی غم نہیں ہوتا
سانپ کے لئے کوئی محترم نہیں ہوتا
کینچلی بدلنے سے زہر کم نہیں ہوتا
….
….
شاعر: سعود عثمانی

No comments:

Post a Comment